کالعدم تکفیری تنظیمیں سرگرم: حکومتی نمائندوں کی دہشت گرد تنظمیوں کی پشت پناہی

IQNA

کالعدم تکفیری تنظیمیں سرگرم: حکومتی نمائندوں کی دہشت گرد تنظمیوں کی پشت پناہی

12:58 - June 08, 2016
خبر کا کوڈ: 3500947
بین الاقوامی گروپ:پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے کارکن بھرپور طریقے سے سرگرم پائے گئے ہیں اور خفیہ مقامات پر 58 اجلاس بھی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ دوسری جانب کالعدم تنظیموں نے بعض سیاستدانوں کے ساتھ اپنے گہرے روابط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فورتھ شیڈول سے کئی نام خارج کروا لیے ہیں
کالعدم تکفیری تنظیمیں سرگرم: حکومتی نمائندوں کی دہشت گرد تنظمیوں کی پشت پناہی
ایکنا نیوز- شفقنا-ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنیوالے ادارے نے 90 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس پر جلد ہی اعلی عہدیداروں کو بریفنگ دی جائے گی۔ اس رپورٹ کے ساتھ 3 صفحات پر تجزیات اور سفارشات بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صوبائی وزیر قانون راناثناء اللہ، آئی جی پنجاب پولیس مشتاق سکھیرا سمیت دیگر متعلقہ حکام رپورٹس میں تبدیلیاں کرتے رہے جبکہ وفاقی وزارت داخلہ کو بھجوائی جانیوالی رپورٹس میں کئی کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کے نام شامل ہی نہیں، چنانچہ ایک انتہائی اہم حساس ادارے نے پنجاب کی طرف سے ان بوگس رپورٹس کو بے نقاب کیا اور پھر کئی نام وزارت داخلہ کی فہرست میں دوبارہ شامل کیے گئے۔ پاک فوج اور ایجنسیوں نے‘ فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے جو کوششیں کی ہیں‘ وہ رائگاں نہیں جانی چاہئیں۔ اگر بعض سیاستدانوں یا سینئر سرکاری اہلکاروں نے‘ کالعدم تنظیموں کی‘ پر تشدد کارروائیوں سے صرف نظر کیا ہے‘ اور کسی مصلحت‘لالچ‘ تحریص‘ اور ترغیب میں آ کر‘ اُنہیں کلین چٹ دینے کی کوشش کی ہے‘ تو اُس کی بھی چھان بین ہونی چاہیے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بڑی سوچ بچار کے بعد کالعدم تنظیموں پر پابندی لگائی گئی ۔صرف وہی تنظیمیں ان پابندیوں کی زد میں آئیں‘ جن کا مزاج مُتشددانہ تھا اور جو فرقہ واریت کا پرچار کرتی تھیں۔ جب ان تظیموں پر پابندی لگائی جا رہی تھی‘ تو حکومت پر زور دیا گیا تھا‘ کہ‘ امریکہ‘ بھارت‘ یا کِسی اور ملک کی پسند یا ناپسندکے تحت پابندی نہ لگائی جائے۔ یعنی پابندی کا حقیقی جواز ہونا چاہیے کیونکہ امریکہ اور بھارت بعض ایسی تنظیموں پر پابندی لگوانے کے خواہاں تھے‘ جو خدمت کا شاندار ریکارڈ رکھتی ہیں‘ جن کا دہشت گردی‘ فرقہ واریت اور مسلکی عصبیت سے دور دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔ ایسی تنظیموں کو فلاحی کاموں سے روکنا عوام سے زیادتی کے مترادف تھا۔ کالعدم تنظیموں میں سے بعض نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر فرقہ واریت اور مسلکی عصبیت کو فروغ دیا ہے۔ مذہب نے آپس میں محبت کرنا سکھایا‘ لیکن ان تنظیموں نے اللہ و رسول کے مقدس ناموں پر‘ کلمہ گوئوں کا خون بہایا۔ جس سے نہ صرف یہ کہ ‘ کئی بے گناہ جانیں‘ ضائع گئیں‘ بلکہ معاشرے کا امن و سکون بھی تباہ ہوا۔ ان کالعدم تنظیموں نے اسلام اور ملک کو بدنام کیا‘ یہ کِسی لحاظ سے بھی قابل معافی نہیں۔
نظرات بینندگان
captcha