
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «سیبیسینیوز » کے مطابق وینیپگ شہر کی اسلامی انجمن کی رکن لبنة عثمانی نے کہا :
رمضان سے پہلے پروگرام بنایا گیا تھا تاکہ مسلمان پناہ گزین اٹھارہ گھنٹے روزے کے بعد آسانی سے روزہ افطار کرسکے
انہوں نے کہا کہ بہت ضرروری ہے کہ پناہ گزین دیکھتے کہ یہاں کے مسلمان روزہ کے اب تک پابند ہیں۔
عثمانی نے کہا کہ روزہ افطار کرانے کے علاوہ مسلمان پناہ گزینوں کی مالی امداد کا پروگرام بھی بنایا گیا ہے
انہوں نے مزید کہا: کینیڈا میں زندگی کا مفہوم یہ نہیں کہ ہم اسلام چھوڑ دیں ہم پناہ گزنیوں کو دیکھانا چاہتے ہیں کہ مسلمان دنیا کے جس خطے میں ہو وہ اسلامی احکامات کے پابند ہوتے ہیں۔