ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق پیر کو اپنے ایک بیان میں ترجمان وزارت داخلہ کاکہناتھاکہ عمرمتین نے مارچ 2011ءمیں 10دن اور 8دن مارچ کے بعد عمرہ کیلئے ریاست میں موجود رہے ۔اس سے قبل متین کی سابق اہلیہ نے بتایاکہ حملہ آور جذباتی ، ذہنی طورپر پریشان اور ایک پولیس افسر بننے کا خواہشمند تھا، وہ دنیا کی سب سے بڑی سیکیورٹی کمپنی G4Sکیلئے بھی فرائض سرانجام دیتا رہاجبکہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے اس نقطے پر بھی تحقیقات کررہے ہیں کہ آیا ملزم نے داعش سے متاثر ہوکر تو یہ انتہائی قدم نہیں اٹھایا، اگرچہ یہ بھی کہاگیاہے کہ عمر متین کے جنگجوگروپ کے ساتھ براہ راست کام کرنے کے کوئی شواہد نہیں ملے ۔قابل ذکر ہے کہ امریکی حکام اپنی ساکھ بچانے کے لیے اس ایک انفرادی واقعہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔