ایکنا نیوز- بھارت میں مسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم کا سلسلہ جتنا پرانا ہے انہیں انصاف کی فوری فراہمی کا مسئلہ بھی اتنا ہی پرانا ہے۔
ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق 2002میں ہونے والے گجرات فسادات میں مسلمانوںکے قتل عام میں ملوث مجرموں کو عدالت نے 14سال بعد سزا سنادی ہے۔مذہبی تفرقہ بازی اورفسادات میں ملوث ہونے پر 11 مجرموں کو عمر قید،ایک کو10 سال جبکہ 12 کو سات ،سات سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق سزا پانے والوں میں سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے ایک رہنما اتل ویدیہ اور کانگریس کے سابق کونسلر میگھ جی چودھری بھی شامل ہیں۔ مجرم ٹھہرائے جانے والوں میں سے 11 کو قتل عمد کی دفعہ 302 کے تحت مجرم قرار دیا گیا ۔اس مقدمے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کیونکہ اس کی تفتیش سپریم کورٹ کی رہنمائی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کی تھی۔ بی بی سی کے مطابق فروری 2002میں کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری سمیت 69افراد گجرات فسادات میں لقمہ اجل بنے ۔یہ فسادات گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین پر ہونے والے حملے کے بعد ہوئے تھے جس میں 59 افراد مارے گئے تھے۔فسادات کے وقت بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ خیال رہے کہ عدالت نے دوجون کواس معاملے میں 24 افراد کو مجرم قرار دیا تھا جبکہ 36 کو بری کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ گجرات فسادات سے متعلق نو دیگر مقدمات بھی ہیں جن کی تحقیقات عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کے تحت کی جا رہی ہیں۔