
ایکنا نیوز- نیوز چینل العالم کے مطابق سعودی علما کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا ہے
«طلباء، دانشور،مصنفین، خطبا اور تمام مسلمانوں» نے واضح کردیا ہے کہ «تکفیری افکار جو داعش سے منسوب ہیں ان افکار کا مقابلہ ضروری ہے کیونکہ ان تعلیمات اور سوچ کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں!».
رپورٹ کے مطابق جوانوں کی اس گروپ میں شرکت کی وجوہات پر بھی تحقیق کی جارہی ہے
اس اعلامیے میں مزید آیا ہے: « تکفیری سوچ کا سرچشمہ جہالت اور نادانی ہے اور اسی وجہ سے یہ لوگ کسی کے لیے احترام کے قائل نہیں اور نہ ہی اپنے کاموں کے اثرات پر غور کرتے ہیں اور ان امور کو دیکھتے ہوئے کہاجاسکتا ہے کہ یہ اسلام سے منحرف سوچ کے لوگ ہیں۔ ».
سعودی علما کونسل کا اعتدال پسندی پر مبنی بیان اس حال میں سامنے آیا ہے کہ وہابیت کی بنیاد ہی ہر قسم کی گفتگو کی مخالفت اور نفی کرنا ہے اور ان کے فتووں کے مطابق جو لوگ وہابی نہیں ،مرد و عورت سب کو قتل کرنا چاہیے اور بلاشبہ اس سوچ کے پیچھے یہی علما ماضی قریب میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔