
ایکنا نیوز- نیوز ویب سایٹ «روسیا الیوم» کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ جمعے کی رات کو حملے کرنے والے دہشت گردوں نے «الله اکبر» کا نعرہ لگاتے ہوئے حملہ کیا
ریسٹورنٹ کے ایک اسٹاف جو بھاگنے میں کامیاب ہوا تھا کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے تمام لایٹس بجھانے کے بعد سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی کپڑوں سے چھپا دیا۔
ایک اور زندہ بچ جانے والے تاجر نے کہا کہ پینتیس مغویوں کی زندگی کا انحصار اس بات پر تھا کہ وہ مسلم ہے یا نہیں۔
انکا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے سب مغویوں کو قرآن مجید زبانی تلاوت کا حکم دیا جنہوں نے تلاوت کی انکو الگ کیا اور انکو کھانا کھلایا مگر جو قرآن نہ پڑھ سکے انکو بدترین انداز میں وحشیانہ طرز پر قتل کیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ ڈھاکہ کے «هلی» ریسٹورنٹ پر حملے میں ۲۸ افراد مارے گئے جنمیں ۲۰ مغوی ۶ دہشت گرد اور دو پولیس اہلکار شامل تھے۔
آپریشن انچارج «نایم اشفاق »، کے مطابق بیس مغویوں کو بدترین انداز میں خنجروں سے زبح کیا گیا تھا ۔ داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔