
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق سیکیورٹی ایجنسیوں کا دعویٰ تھا کہ 2 دہشت گرد گروپ وفاقی دارالحکومت میں داخل ہوچکے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ یہ گروپ امام کعبہ کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بھیجے گئے تاہم وہ انھیں ایک آسان حدف سمجھ سکتے ہیں۔
اگرچہ امام کعبہ اپنے دورہ پاکستان کے بعد اتوار کو واپس سعودی عرب روانہ ہوگئے تاہم سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کے شہر میں داخلے کے دعوے نے عید الفطر سے قبل شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ دارالحکومت ہمیشہ ہی خطرے کی زد میں رہتا ہے، لہذا پولیس نے پہلے ہی عید کی چھٹیوں کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے انتطامات کر لیے تھے۔
دوسری جانب نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم نے ڈان کو بتایا کہ امام کعبہ کی اسلام آباد میں موجودگی کے دوران ان کے کلب کے دورے کے انتظامات کیے گئے تھے۔
امام کعبہ نے کلب میں ظہر کی نماز پڑھا کر دعا کروانی تھی اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس موقع پر صرف صحافیوں اور ان کے اہلخانہ کو ہی شرکت کی اجازت ہوگی۔
شکیل انجم نے بتایا کہ اتوار کی صبح سیکیورٹی ایجنسیوں نے ان سے رابطہ کیا اور انھیں بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کی بناء پر امام کعبہ کا دورہ منسوخ کیا جانا چاہیے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی عہدیداران نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں/ خودکش بمباروں کے 2 گروپ وفاقی دارالحکومت میں داخل ہوچکے ہیں۔
شکیل انجم کے مطابق بعدازاں سیکیورٹی افسران نے امام کعبہ سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ نیشنل پریس کلب آنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں، جس کے بعد امام کعبہ نے اپنا این پی سی کا دورہ منسوخ کردیا۔
ایک پولیس افسر کے مطابق، 'ہم پہلے ہی عید الفطر کے موقع پروفاقی دارالحکومت میں امن کے قیام کے سلسلے میں فول پروف انتظامات کرچکے ہیں اور شہریوں کو اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے'۔