
ایکنا نیوز- الیکٹرونک اخبار (Affairs Today) میں لکھے گیے آرٹیکلز میں برطانوی طلباء نے مدینہ اور
مسجدالنبی(ص) کے قریب خودکش دھماکوں سمیت استنبول اور بنگلہ دیش میں داعش کے حملوں پر تبصرہ کیا ہے
آرٹیکلز میں کہا گیا ہے کہ عجیب بات ہے کہ اکثر دھماکے اسلامی ممالک میں کیے جاتے ہیں مثلا عراق جہاں ۹۷ فیصد لوگ مسلمان ہیں نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے مخالفین کے ساتھ جنگ کا دعوی بے بنیاد اور نادرست ہے.
اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اب تک دیگر غیر مسلم ممالک کے مقابلے میں اسلامی ممالک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور جب ایک دھماکہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے
نیویارک میں ہونے والے سروے کے مطابق جو سال ۲۰۰۹ میں دہشت گردی کے حوالے سے کیا گیا صرف بارہ فیصد القاعدہ کے ہاتھوں مرنے مغربی ممالک میں تھے یعنی اس عرصے میں القاعدہ کے ہاتھوں سات گنا زیادہ مسلمان ہلاک ہوچکے ہیں
سال ۲۰۱۶ میں داعش نے ۲۱ بڑے حملے کیے جنمیں اٹھارہ اسلامی ممالک میں ہوئے ، سال ۲۰۱۳ میں داعش کے ہاتھوں غیر اسلامی ممالک میں مجموعی طور پر ۸۳ لوگ مارے گیے ہیں جبکہ اسی عرصے میں ۶۷۷ مسلمان داعش کے ہاتھوں جان بحق ہوچکے ہیں
پس یہ تصور کرنا کہ داعش اسلام کے مخالفین کے خلاف بنی ہے مکمل طور پر غلط ہے ، داعش کا اسلام سے کوئی تعلق اور دلچسپی ہی نہیں ، انہوں نے صرف اسلام کے نام سے استفادہ کرکے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔
جب بھی کہیں دھماکہ ہوتا ہے فورا مسلمانوں کا نام لیا جاتا ہے اور اسلام کو بدنام کرنے کی سازش شروع ہوتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو داعش چاہتی ہے
لہذا ضروری ہے کہ ہرمسلمان اس بات کو سمجھ لے کہ داعش کسی طور پر اسلام کے لیے نہیں لڑتی اور ان سے نفرت کرکے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش کو ناکام بنایا جائے۔