ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق جرمنی کے ایک سکول میں اس بات پر ہنگامہ برپا ہو گیا اور استانیوں نے ہڑتال کردی ہے کہ سکول کے ایک مسلمان طالبعلم نے ایک خاتون ٹیچر سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا تھا۔ اخبار دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق ہیمبرگ شہر کے کرٹ سٹوسکی سکول کی سالانہ تقریب میں ایک خاتون ٹیچر نے مسلمان طالبعلم سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی تو اس نے جواب دیا”میں آپ کی دل آزاری نہیں چاہتا، لیکن میرے مذہب میں اس کی اجازت نہیں، میں آپ کی بے ادبی ہرگز نہیں چاہتا۔"اگرچہ مسلمان طالبعلم نے انتہائی مو¿دب انداز میں ہاتھ ملانے سے معذرت کی تھی لیکن خاتون ٹیچر مشتعل ہوگئیں اور پرنسپل اینڈریا لوتک کے پاس شکایت لے کر چلی گئیں، تا ہم پرنسپل نے خاتون ٹیچر کے کہنے پر طالبعلم کو گھر بھیجنے سے انکار کردیا۔ غصے سے بپھری ہوئی ٹیچر اور ان کی چار ساتھی استانیوں نے احتجاجاً واک آﺅٹ کا اعلان کردیا۔
پرنسپل نے میڈیا کو بتایا کہ بعدازاں سات خواتین ٹیچرز نے احتجاج کرتے ہوئے ایک اور تقریب کا بھی بائیکاٹ کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ طالبعلم کو اچھی طرح جانتی ہیں، وہ شدت پسند نہیں ہے۔ ان کی وضاحت کے باوجود خواتین ٹیچرز نے اپنے شدت پسند ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھااور طالبعلم کو سکول سے نکالنے پر اصرار کرتی رہیں۔