برطانیہ کی وزیراعظم «تھریسا مے» کے آنے سے مسلمان پریشان

IQNA

برطانیہ کی وزیراعظم «تھریسا مے» کے آنے سے مسلمان پریشان

7:37 - July 15, 2016
خبر کا کوڈ: 3501154
بین الاقوامی گروپ: وزیراعظم «تھریسا مے» کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے مسلمان خوش دکھائی نہیں دیتے


برطانیہ کی وزیراعظم «تھریسا مے» کے آنے سے مسلمان پریشان

ایکنا نیوز- کے مطابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ملکہ برطانیہ الزبتھ کو اپنا استعفیٰ پیش کیا جس کے بعد وزیر داخلہ تھریسامے نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا۔

واضح رہے کہ تھریسا مے برطانوی تاریخ میں دوسری خاتون وزیراعظم ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ دینے سے قبل ہی گزشتہ روز باضابطہ طور پر ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیراعظم ہاؤس) خالی کردیا تھا۔


روزنامہ انڈیپینڈنٹ میں شاهین ستار لکھتا ہے: شاید ہی کوئی دوسرا تھریسا مے کی طرح مسلمان کو نقصان پہنچا سکے۔


دہشت گردی سے مقابلے کے نام پر تھریسا مے کا مسلمانوں کے خلاف اقدام اور رویہ زبان زد خاص و عام ہے

انکی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے مسلمان طلبا لب اعتراض نہیں کھول سکتے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں قانون کی خلاف ورزی کے نام نشانہ بنایا جائے۔

ماضی میں انکی جانب سے اسلامو فوبیا کے حوالے سے قرار داد اور اقدامات لوگ بھولے نہیں۔

برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی لیڈر ہونے کے ناطے مے وزیر داخلہ رہ چکی ہے اور اس دور کے مسلم مخالف اقدامات کو دیکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ انکی وزارت عظمی کے دور میں مسلمانوں کو خطرات در پیش ہوسکتے ہیں

سال ۲۰۱۵ میں مے کو مسلم کونسل کی جانب سے اسلامو فوبیا کا علمبردار قرار دیا جاچکا ہے۔


3514951

نظرات بینندگان
captcha