
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے عیون الخلیج کے مطابق تھریسامے جو سال ۲۰۱۵ میں اسلاموفوبیا کے حوالے سے شہرت پاچکی ہے ایک ویڈیو کلپ میں قرآنی آیات کا حوالہ دیکراسلام کا دفاع کرتی نظر آرہی ہیں !
تھریسا اس کلپ میں سوره حجرات آیت ۱۳: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ:
کا حوالہ دیکر رنگ و نسل میں تفریق کی وضاحت اور اسلام کا دفاع کرتی نظر آتی ہیں!
اسی طرح وہ سوره بقره آیت ۲۵۶: «لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ:
کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں اور اس حوالے سے اسکا کہنا ہے کہ دین اسلام امن و صلح کا مذہب ہے نہ کہ زبردستی کا ۔
یک بام و دو ہوا پالیسی
ان اظهارات سے برطانوی سیاست کی دوگانگی نظر آتی ہے جہاں ایک طرف تھریسا اسلام مخالف پالیسوں میں پیش پیش رہی ہیں وہاں یہی شخص اس طرح کی باتیں کرتی نظر آتی ہے
تھریسا سال ۲۰۱۵ میں دہشت گردی سے مقابلے کے نام پر سخت ترین پالیسیوں کی حمایت کرچکی ہے اور انکے اقدامات کی وجہ سے مسلمان طلبا برطانیہ میں آزادی بیان کے اظھار سے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔