مدرسہ ریفارمز پر اتفاق: دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امید کی کرن

IQNA

مدرسہ ریفارمز پر اتفاق: دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امید کی کرن

15:09 - July 17, 2016
خبر کا کوڈ: 3501173
بین الاقوامی گروپ:ایک بڑی پیشرفت کے تحت حکومت اور اتحاد تنظیمات مدارس کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن اور ان کے نصاب کے حوالے سے دیرینہ مسئلہ پر معاہدہ ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ اسلام آباد میں وفاقی وزارت تعلیم اور تنظیمات کے اجلاس کے دوران ہوا۔
ایکنا نیوز-شفقنا-بورڈز کے سربراہوںنے دی نیشن کو بتایا کہ مدارس کے طلبا کو مختلف مراحل میں جدید سائنسی مضامین، انگلش اور پاکستان سٹڈیز (مطالعہ پاکستان) کے مضامین پڑھائے جائیں گے۔ اس کے بدلے میں حکومت ان کے طلبا کے امتحانات کے بعد سرکاری تعلیمی اداروں کے تعلیم کے مساوی تعلیم کو تسلیم کرے گی۔ وہ حکومت کی تسلیم شدہ اسناد حاصل کر سکیں گے۔ مدارس کی تعلیم کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت تسلیم کیا جائے گا۔ ملک بھر کے 35 ہزار سے زائد مدارس کے نصاب میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ مناسب رجسٹریشن کے بعد انہیں قومی دھارے میں لایا جائے گا۔ یہ نیشنل ایکشن پلان کا ایک حصہ ہے۔ اس حوالے سے 2015 میں سیاسی وفد میں جماعتوں کی مشاورت سے روڈ میپ بنایا گیا تھا جس کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے۔ 5 فیڈریشنز کے تحت 35 لاکھ طلبا مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ 8 سالہ درس نظامی کورس میں تمام لازمی جدید علوم پڑھائے جائیں گے۔ اس حوالے سے تفصیل کے مطابق ثانویہ عامہ (ابتدائی دو سال درس نظامی) شہادت العالیہ (6 سال) اور شہادت العالمیہ (8سال) کو بالترتیب میٹرک، انٹرمیڈٹ، گریجویشن اور ماسٹر ڈگری کے برابر تسلیم کیا جائے گا۔ مدارس کی رجسٹریشن اور نصاب کے دیرینہ مسئلہ پر حالیہ پیش رفت خوش آئند ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن اور نصاب میں جدید علوم کو شامل کرنے کی کوشش2015ء میں حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان مشاورت کے بعد نیشنل ایکشن پلان کا حصہ قرار پائی تھی جس پر تنظیمات مدارس کو کچھ تحفظات تھے جن کو خوش اسلوبی سے دور کر کے انہیں قومی دھارے میں لانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ 35 لاکھ سے زائد طلباء ان مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں معاہدہ طے ہونے کے بعد انہیں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم پڑھنے کا موقع ملے گا اور حکومت کی تسلیم شدہ تعلیمی اسناد کی بدولت ملازمتوں کے حصول میں بھی آسانی ہو گی۔تاہم مدارس کے تعلیمی بورڈز کو قانونی شکل دینے کا مسئلہ ابھی طے کرنا باقی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اسے بھی باہمی مشاورت سے بحسن و خوبی طے کر لیا جائیگا اور ایک مثبت پیشرفت کا آغاز ہو گا۔اب تنظیم وفاق المدارس کو خوش دلی اور خوش اسلوبی کے ساتھ اس معاہدے کو اسکی روح کے مطابق روبہ عمل لانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ آئندہ مدارس کے حوالے سے کسی قسم کی منفی سوچ پیدا نہ ہو۔
نظرات بینندگان
captcha