
ایکنا نیوز- پریس ٹی وی کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بجلی کے منصوبے میں ہزارہ برادری کے علاقوں کو نطر انداز کیے جانے کے خلاف شیعہ ہزارہ برادری کے ہزاروں افراد احتجاج کررہے تھے کہ اچانک زور دار دھماکا ہوگیا جس سے مظاہرے میں بھگدڑ مچ گئی، اسی دوران دوسرا دھماکا بھی ہوا جس کے نیتجے میں اب تک 85 افراد ہلاک جب کہ 200 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
افغان حکام نے 80 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہیں جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے مظاہرے میں عوام کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ہلاکتوں میں بھی مزید اضافے کے خدشہ ہے۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ تین خود کش حملہ آور احتجاجی مظاہرے میں موجود تھے،ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا،دوسرے خود کش حملہ آور کی جیکٹ پھٹ نہ سکی اور ایک خودکش حملہ آور افغان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے برقع پہنا ہوا تھا،افغان صدر اشرف غنی نے کابل دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے شہریوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا، دھماکے کا شکار ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاربھی شامل ہیں۔