
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «Asian Age» کے مطابق ۲۵ سالہ مونا الفضلی نے آکلینڈ شہر میں جواہرات اور گھڑی کی سپرمارکیٹ «اسٹوارٹ داسنز» میں کام کے لیے دلچسپی رکھتی ہے مگر اس مارکیٹ کی انچارج خاتون نے واضح طور پر کہا کہ «آپ اس اسکارف کے ساتھ کام کے لیے زحمت نہ کرے»
الفضلی کا کہنا ہے: «مجھے شدید شرمندگی اٹھانی پڑی کیونکہ میں نے بہت جرات کا اظھار کرکے اس انچارج خاتون سے کام کی درخواست کی تھی».
آکلینڈ کے مضافاتی علاقے سے تعلق رکھنے والی «اوندیل» والی اعلی تعلیم یافتہ مسلمان خاتون کویت سے ہجرت کے یہاں آئی ہے۔
الفضلی نے واضح کیا کہ: «میں جہاں کام کرونگی وہاں اپنی ثقافت کے مطابق اسکارف ضرور پہنوں گی».
اس سے پہلے «فاطمه محمدی» یونیورسٹی طالبہ کو بھی مذکور مارکیٹ حجاب کی وجہ سے مسترد کرچکی ہے۔
مارکیٹ کے مالی انچارج کوین ٹرنر نے واقع کے حوالے سے کہا کہ مارکیٹ کی موجودہ انچارج خاتون حال ہی میں کام کا آغاز کرچکی ہے لہذا وہ ہمارے قوانین سے آگاہ نہیں اور نہ ہی درست تعاون کررہی ہے ہم نے اس حوالے سے مونا الفضلی سے معذرت بھی کی ہے۔
سال ۲۰۱۵ میں امریکن مسلمان خاتون «سامانتا الاوفی»، کو «ابرکرومبی و فیچ» نامی کمپنی سے اسکارف اوڑھنے پر کام سے نکالا گیا تھا جبکہ عدالت نے مداخلت کرکے اس خاتون کے حق میں فیصلہ دے کر اسے کام پر لگانے کی سفارش کی تھی۔