ایکنا نیوز- شفقنا- انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بعض لوگ ملت شام کو دو تلخ باتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں یا تو دہشت گردانہ اقدامات جاری رہیں یا شام بدامنی اور بے نظمی کا شکار ہو جائے۔
بشار الجعفری نے کہا کہ دسیوں اجلاسوں کے انعقاد اور اعلامیے جاری کرنے سے شامی عوام کی مصیبتیں اور مشکلات ختم نہیں ہوں گی بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سنجیدگی سے لڑنا ہو گا۔
اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے نے کہا کہ شام میں انسانی بحران اور المیے کی وجہ دہشت گردی، محاصرہ اور مسلط کردہ یکطرفہ اقتصادی بائیکاٹ ہے۔ اس لیے اس بحران کا حل، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد، شامی حکومت کی مکمل ہم آہنگی اور تعاون نیز دہرے معیارات اور نفاق پالیسیوں کو چھوڑنے سے ہی ممکن ہے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قطر، ترکی اور سعودی عرب کی حکومتیں نیز دہشت گرد گروہوں کے حامی دیگر ممالک کو دہشت گردوں کی حمایت ختم کر دینی چاہیے اور انھیں چاہیے کہ وہ شام میں جرائم پیشہ دہشت گردوں کے اقدامات کو قانونی اقدامات ظاہر کرنا بند کر دیں کیونکہ دہشت گردوں کو جانبدارانہ نام دینے سے ان کے اقدامات کو قانونی رنگ ملتا ہے۔