مشتعل عوام نے سڑکوں پر ٹائر جلائے، ہندوؤں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، جبکہ مشتعل افراد کو پر امن کرنے کے لیے آنے والے ایس ایس پی سکھر امجد شیخ کی گاڑی پر بھی حملہ کیا گیا۔
مقامی ہندوں کا کہنا ہے کہ لعل جان کا زہنی توازن ٹھیک نہیں اور اس نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کرلیا تھا۔ دوسری جانب مقامی ہندو تاجر جومظاہرین کی گولی سے زخمی ہوا تھا چل بسا ہے۔
عوام کے شدید احتجاج اور ضلع بھر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے بعد پولیس نے ملزم امر لعل کو گرفتار کرلیا اور اس کے خلاف ڈہرکی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔