
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «Global Voices» کے مطابق جاپان کی اعلی عدالت نے رسمی طور پر مسلمانوں کی نظارت اور انکی جاسوسی کو ختم کرنے کی درخواست رد کردی ہے
جاپان میں مسلمانوں کی جاسوسی کے مسلے کا انکشاف سال ۲۰۱۰ سے ہوا تھا
اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسلمانوں کے پتے اور دیگر تمام اطلاعات پولیس جمع کررہی ہے اور معلوم ہوا کہ سال ۲۰۰۸ سے رسمی طور پر پولیس مسلمانوں کی نظارت کررہی ہے
اس رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ جاپان میں ۷۲ هزار مسلمانوں کے بینک اکاونٹ اور آنے جانے کی مکمل اطلاعات پولیس کے پاس موجود ہیں
مساجد، مارکیٹ اور دیگر اہم اداروں اور مراکز میں ہر مسلمان پر خفیہ کیمروں سے نظر رکھی جارہی ہے
اس حوالے سے مسلمانوں کے ایک گروپ نے درخواست بھی دائر کی تھی جسکو اعلی عدالت نے رد کردیا تھا۔
مسلم کیمونٹی کا کہنا ہے کہ پولیس ہر مسلمان فرد سے انکے اپنے ہی دوستوں اور فیملی ممبران کے خلاف جاسوسی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے
ایک سروے کے مطابق جاپان میں ایک لاکھ کے لگ بھگ مسلمان بستے ہیں۔