ایکنا نیوز- ڈان نیوز-اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی شریک ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق اجلاس میں سانحہ کوئٹہ کے بعد کی صورت حال پر غور کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب رواں ہفتے 8 اگست کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی کے قتل کے بعد سول ہسپتال کے گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد وکلاء کی تھی جبکہ صحافی برادری بھی اس کی زد میں آئی اور نجی نیوز چینلز آج ٹی وی اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین حملے میں ہلاک ہوگئے۔
کوئٹہ خودکش دھماکے کے بعد سیکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سیکیورٹی ایجنسیوں کو ملک بھر میں اسپیشل کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔
کیا اس بار دہشت گردوں کے خلاف صحیح معنوں میں آپریشن ہوگا یا ہمیشہ کی طرح دوبارہ صرف میڈیا کی حد تک پروپیگنڈہ ہوگا اور دہشت گرد ایک اور کارروایی سے سب کچھ واضح کردے گا ؟