
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «treckat.com» کے مطابق مسلم آبادی نے اس اقدام کو مسلمانوں پر اسلامی اور قرآنی تعلیمات پر پابندی کا مقدمہ قرار دیا ہے
رپورٹ کے مطابق برما کے جنوبی شهر «منگدو» میں درجنوں اسکولوں کے اساتذہ کو سیکورٹی اداروں میں طلب کرکے ان سے تحریری طور پر اس بات کی ضمانت لی گئی ہے کہ آئندہ سے وہ اسلامی یا قرآنی تعلیمات کے کورس کسی طور نہیں پڑھائیں گے۔
اس ضمانت نامے میں کہا گیا کہ وہ گھروں میں بھی اسلامی اور قرآنی کورس کی تدریس نہیں کریں گے۔
برما کے ان اساتذہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی پر انہیں دس سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس پابندی کو جلد مسلم نشین صوبے «آراکان» سمیت تمام دیگر علاقوں میں مسلمانوں پر لاگو کیا جائے گا۔
سال ۲۰۱۲ میں مسلمانوں پر مظالم کے بعد بہت سی مساجد اور اسلامی مراکز کو بند کردیا گیا تھا اور ڈیموکریسی بحالی کے باوجود ان مساجد پر بدستور پابندیاں عائد ہیں۔