
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «البدیل» کے مطابق مارچ ۱۹۶۴ سے قائم کردہ مصری قرآنی ریڈیو دنیا کے قدیم ترین چینلوں میں شمار ہوتا ہے جو قرآنی امور پر کام کررہا ہے مگر گذشتہ بیس سالوں سے اس چینل میں کویی نیا کام نہیں ہوا ہے اور ایک عرصے سے یہ فرسودگی کا شکار ہے
ایک زمانہ تھا کہ اس چینل پر قاری عبدالباسط عبدالصمد، مصطفی اسماعیل و محمد رفعت جیسے قرآء اس چینل سے دنیا بھر میں سامعین کے دلوں کو اپنی تلاوت سے گرماتے تھے
مصری محقق اور میڈیا ایکٹویسٹ «هیثم ابو زید» کا کہنا ہے کہ ان دنوں ریڈیو مصر کی حالت زار سے فایدہ اٹھا کر سعودی وہابی لابیز اس ریڈیو پر تسلط جمانے اور وہابی قرآء کو اس ریڈیو پر سرگرم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں حالانکہ یہ مصری قرآء تھے جنہوں نے سعودیوں کو تلاوت سکھائے تھے۔
الازھر کے عالم دین یحیي اسماعیل حلبوش نے ریڈیو قرآن اور جامعہ الازھر کی قرآنی حالت زار کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ انکا کہنا کہ ہے کہ یہ ریڈیو عالم اسلام سے متعلق ہے اور پوری دنیا میں قرآنی تعلیمات کا فروغ اسکے فرائض میں شامل ہے۔
مصری ریڈیو قرآن کے سربراہ «سید صالح» نے ہر قسم کی سیاسی مداخلت کو اس ریڈیو میں رد کرتے ہوئے کہا کہ مالی مسائل کے باوجود اس چینل پر غیر ملکی زبانوں پر کام کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔