
ایکنانیوز- پریس ٹی وی کے مطابق جرمن وزیر داخلہ تھامس دمزیر کا کہنا ہے کہ برقعے پر محدود پابندی لگانے پر اتفاق ہوچکا ہے اور اس کے مطابق دوران ڈرائیونگ، دفاتر، مدارس،یونیورسٹیوں اور احاطہ عدالت وغیر میں برقعہ اوڑھنے پر پابندی ہوگی
دوسری جانب وزیر انصاف گیدو ولف اور جرمن حکمران پارٹی نے بھی اس فیصلے کی تایید میں کہا ہے کہ عدالتوں میں برقعہ پہننے پر پابندی کے حوالے سے قانون پر کام جاری ہے۔
اس سے پہلے جرمنی میں سال ۲۰۱۵ میں مسلمان ٹیچرز کے لیے حجاب پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔
عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ یہ پابندی مذاہب کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔