ایکنانیوز- شفقنا- سعودی وزیر دفاع نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی، اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ تعلقات اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وزیر کے دورے میں دفاعی شعبےمیں تعاون اور فروغ پر بھی بات چیت کی جائےگی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب جو اس وقت یمن جنگ میں بری طرح گِھر چکا ہے اور تعز میں انکی ایجنٹ فوج پھنس گیی ہے اس کو پاکستان کی دوبارہ ضرورت تو پیش نہیں آ گئی؟ پاکستان جو پہلے ہی دہشتگردوں کو سعودی فنڈنگ کی ذد میں ہے اس کو دوبارہ دباؤ میں تو نہیں ڈالا جا رہا؟
پاکستانی حکومت کو اپنے قومی مفاد کو پہلے سوچنا ہو گا اور کوئی بھی قدم عوام کے مفاد کے خلاف پاکستان کو مزید دہشتگردی میں دھکیل سکتا ہے۔