کوفی عنان نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات میں غیر جانبداری سے کام لیں گے۔
راخائن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اراکان نیشنل پارٹی پہلے ہی اس بات کا اعلان کرچکی ہے کہ وہ کوفی عنان سے کوئی ملاقات نہیں کرے گی۔
واضح رہے کہ میانمار میں روہنگیا برادی کے تقریباً 10 لاکھ افراد کو شہریت سے محروم رکھا گیا ہے اور میانمار کی حکومت انہیں نسلی اقلیت تسلیم نہیں کرتی۔
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روہنگیا برادری کے افراد کو شہریت دے اور خود کو روہنگیا کہلوانے کے ان کے حق کو تسلیم کرے۔
میانمار کی حکمراں جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی نے تحقیقات کے لیے کوفی عنان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا تاہم ان کے پہنچنے پر بدھ مت گروپس کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں’ہمیں راخائن میں جانبداری پر مبنی بیرونی مداخلت قبول نہیں اور کوفی عنان کی سربراہی میں کمیشن نامنظور کے نعرے درج تھے‘۔
کوفی عنان کے ویتی ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی سیکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انہیں یہ پیغام دیا کہ وہ ان کا خیر مقدم نہیں کرتے۔
کوفی عنان میانمار میں اپنے قیام کے دوران ریاست راخائن کے سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جبکہ وہ ان کیمپوں کا بھی دورہ کریں گے جہاں روہنگیا مسلمان ابتر حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ریاست راخائن کی سرحد بنگلہ دیش کے ساتھ ملتی ہے اور 2012 میں یہاں بدھ متوں اور مسلمانوں کے درمیان بدترین فسادات ہوئے تھے۔
فسادات میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہونے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے جبکہ گزشتہ چار برس سے ہزاروں بے وطن روہنگیا مسلمان کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں صحت اور دیگر بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔