بین الاقوامی گروپ:مذہبی رہنما سانحہ چلاس اور دوسرے جگر خراش سانحات سے عبرت کیوں نہیں لیتے ہیں، کیا کوئٹہ و تفتان کے راستے میں بھی ایسے مناظر رونما ہونے کا انتظار کیے جارہے ہیں
ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز- تعجب ہے کہ ہمارے مذہبی رہنما مسئلہ تفتان کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ کیا سانحہ چلاس بھول گئے، 2 اپریل 2012 کو پنڈی سے گلگت بلتستان جانے والے مسافروں کو چلاس میں کانوائے کے نام پر گھنٹوں بسوں کو روک کر رکھا گیا، اردگرد ہزاروں لوگ موجود تھے۔ کئی درجن موٹر سائیکل مسلح سواروں نے گاڑیوں کو رکوایا۔ تقریباً وہ سب لوگ مسلح تھے۔ ہوائی فائرنگ شروع ہوگئی، دائیں بائیں سے ہزاروں کی تعداد میں موجود بھیڑئے امڈ آئے اور بس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اتنے میں دروازہ کھولنے کو کہا سب کو ایک ایک کر کے نیچے اتروایا اور لوگوں کو ان درندوں نے کہا شناختی کارڈ دکھاؤ، جن کے نام علی، تقی، نقی، عباس غرض جن کے نام ائمہؑ هدی میں سے کسی کا تها ان کو جدا کیا۔ ذرا دور لے جایا گیا، تھوڑی دیر کے بعد گولیوں کی آواز آئی اور ساتھ ہی شیعہ کافر کے نعرے بلند ہو گئے۔ سرزمین چلاس بےگناہ مظلوم لوگوں کے خون سے رنگین ہوئی۔ کربلا کامنظر رونما ہوا۔ لعینوں نے ان مظلوموں پر پتھروں، ڈنڈوں اور ہر اس چیز سے جو ان کے ہاتھوں میں تھی حملہ کیا۔ کسی پر چھری چل رہی ہے، کسی پر ڈنڈے برسائے جا رہے تھے، کسی کی چیخ، کسی کی پکار، ہر طرف خون، شیعہ کافر کے نعرے اور لاشوں کی بے حرمتی۔ کمسن دہشتگردوں کے ہاتھوں میں بھی اسلحہ، بھائی کا بہن کے سامنے تڑپنا، بھائی کا بھائی کی نظروں کے سامنے شہید ہو جانا، یہ وہ مناظر ہیں جن سے انسانیت کا سرشرم سے جھک جائے۔
ہمارے مذہبی رہنما سانحہ چلاس اور دوسرے جگر پاش سانحات سے عبرت کیوں نہیں لیتے ہیں، کیا کوئیٹہ و تفتان کے راستے میں بھی ایسے مناظر رونما ہونے کا انتظار کیے جارہے ہیں۔ یاد رہے تفتان راستے میں زائرین کو ستانے والے بھی وہی درندے اور ان کے آلہ کار ہیں، چاہے وہ ایف سی کی شکل میں ہوں یا کسی دوسری شکلوں میں۔ اگر ہمارے مذہبی قائدین و رہنما، ملی تنظیموں کے سربراہ، دانشوران، امام جمعہ و الجماعات، سخنوران و اہل قلم حضرات اسی طرح خاموشی کے بت بنے رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ تفتان راستے میں بھی سانحہ چلاس سے بھی سنگین سانحے کا ہم شکار ہوجائیں۔ پانی سر سے گزرنے کے بعد پھر پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ابھی سے بیدار ہوجائیں۔ تفتان راستہ میں پیش ممکنہ خطرات کو روکنے کے لئے ابھی سے سوچیں۔ کرپٹ عناصر کو لگام دینے کے لئے منصوبہ بندی کریں۔ ملی، لسانی، تنظیمی تفریق کو پاؤں تلے روند کر متحد ہوجائیں۔ مذہبی قائدین سے بات کریں، حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں اور سب سے اہمیت والی چیز یہ ہے کہ ہم سب اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ اس کے عواقب بد کو درک کر لیں۔ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ جس کسی کے پاس جو بھی طاقت ہے، اپنی اس طاقت کے ذریعے اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ ظالم سے نفرت اور مظلوم کی حمایت کرنا ہی ہمارے دین کی روح و جان ہے، نہیں معلوم ارباب اختیار اس حساس مسئلے کی جانب کب متوجہ ہوں گے؟