
ایکنا نیوز- العالم نیوز چینل کے مطابق فلسطینی عوامی مقاومتی تحریک نے ایک بیان میں سعودی مفتی اعظم کی جانب سے تکفیری فتوے کو فرقہ قہ وارانہ اور قوم پرستانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی ایرانی حمایت کی وجہ سے صھیونی شہہ پر یہ فتوی دیا گیا ہے
فلسطینی عوامی تحریک نے اس فتوے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غاصب اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے والی آل سعود فرقہ واریت اور اور فتنوں سے اسلام کی حامی نہیں کہلا سکتی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آل سعود اپنی حد پار کرتے ہوئے ایرانیوں کو «مجوس» کہہ رہی ہے حالانکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ مقاومتی اور فلسطینی تحریکوں کی حمایت پر آل سعود سیخ پا ہے۔ آل سعود نے امت اسلامی کو اختلافات میں ڈال دیا ہے اور حزب اللہ کو مٹانے کے لیے جنگ اسی لوگوں نے شروع کیا تھا تاکہ نیا میڈل ایسٹ بنایا جاسکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آل سعود نے کیوں آج تک فلسطینی حمایت کے لیے ایک فتوی تک صادر نہیں کرسکا ہے ؟
فلسطینی عوامی تحریک نے اسلامی امت سے تقاضا کیا کہ وہ فساد و فتنہ برپا کرنے والی وہابی دہشت گردی اور صھیونی مظالم کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں سیاسی طور پر الگ تھلگ کریں۔