
ایکنا نیوز- نیوز ویب سایٹ«rassd.com» کے مطابق مصر کے مشہور و معروف قاری شیخ عبدالحکیم عبداللطیف جنکو «شیخ احمد المعصراوی» کے بعد شیخ القراء کا لقب دیا گیا تھا گذشتہ روز دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے
وہ الازھر کے اسلامی مصاحف کے تحقیقاتی مرکز کے سربراہ کی حیثیت سے کام کررہے تھے
تعلیم قرآن کے مرکز «المعصراوی» کے سربراہ «شیخ محمد فؤاد» نے اعلان کیا کہ «شیخ عبدالحکیم عبداللطیف» کو جامعہ الازھر مرکز کی مسجد میں دفنایا جائے گا
ایکنا قرآنی نیوز ایجنسی اس حوالے سے امت اسلامی کے حضور تسلیت پیش کرتی ہے.
شیخ عبدالحکیم عبداللطیف کی ذندگی پر ایک نظر
معروف مصری قاری سال ۱۹۳۶ کو قاہرہ کے علاقے «الدمرداش» میں پیدا ہوئے ۔ انکے والدین نے چار سال کی عمر میں آپکو «المحمدی» قرانی مرکز میں داخل کرایا اور آپ نے بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں مکمل قرآن مجید حفظ کرلیا
آپ مسلسل کامیابیوں کا سفر طے کرتے ہوئے جامعہ الازھر میں شامل ہوئے اور سال ۱۹۵۰ میں والد کے اصرار پر مرکز تعلیم حسن قرآت الازھر سے منسلک ہوگئے۔
شیخ عبدالحکیم عبداللطیف نے ابتداء میں «اسکندریه» میں قرآنی خدمات انجام دیا اور پھر ایک سال کے بعد «قاهره» منتقل ہوئے جہاں پر آپ نے الازھر کے مرکز قرآت میں کام شروع کیا۔
مصر اور بہت سے دیگر ممالک کے افراد نے آپ سے کسب فیض کیا اور پھر آپ جامعہ الازھر میں استاد کی حیثیت سے مصروف عمل ہوئے جہاں پر آپ کو محقق کا عنوان دیا گیا
مسجد «الهجینی» میں بہترین قاری اور قاهره کی مسجد «عین الحیاة» میں قاری مسجد کا اعزاز آپ کو دیا گیا ہے اور اسی طرح
مصر کے ریڈیو قرآن سے «اقرؤوا القرآن»(قرآن کو پڑھ لیجیے)، «في التجوید التطبیقی»(تجوید پروگرام) اور «ثمانی حلقات فی التجوید العلمی»(تجوید علمی) جیسے علمی کرنا آپکے کارناموں میں شامل ہے۔