24 فیصد فرانسیسی مسلمان سیکولر قوانین کے خلاف

IQNA

24 فیصد فرانسیسی مسلمان سیکولر قوانین کے خلاف

13:58 - September 19, 2016
خبر کا کوڈ: 3501575
بین الاقوامی گروپ:فرانس میں ہرچار میں سے ایک مسلمان چہرے پر مکمل نقاب کرنے کے حق میں ہے جبکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو ملک کے سخت سیکولر قوانین کے حامی ہیں

ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق اس حوالے سے ہونے والے تازہ ترین سروے کے مطابق خود کو مسلمان کہنے والے زیادہ تر لوگوں نے عوامی مقامات پر مذہبی تفریق پر مبنی عمل پر پابندی کو تسلیم کیا۔

تاہم 60 فیصد مسلمانوں کا خیال تھا کہ لڑکیوں کو اسکول میں اسکارف پہننے کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ 24 فیصد مسلمانوں نے کہا کہ وہ برقعہ یا نقاب کرنے کے حق میں ہے۔

واضح رہے کہ فرانس میں 2010 میں عوامی مقامات پر برقعہ یا چہرے کو مکمل طور پر نقاب سے ڈھکنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سروے میں ایک ہزار 29 افراد سے رائے لی گئی اور اسے 13 اپریل سے 23 مئی کے دوران مکمل کیا گیا۔

سروے رپورٹ میں انسٹی ٹیوٹ مونتائگنے نے فرانسیسی مسلمانوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا، مکمل طور پر سیکولر، عوامی مفاد میں مذہب پر پابندیوں کو تسلیم کرنے والے اور رجعت پسند جو مذہب کو بغاوت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سیکولر کیٹگری میں شامل افراد کی تعداد 46 فیصد رہی جن کا کہنا تھا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو مسترد نہیں کرتے لیکن اپنے مذہبی جذبات کا اظہار حلال کھانے کا خیال رکھ کر کرتے ہیں۔

دوسرے گروہ میں 25 فیصد افراد شامل تھے جو خود کے مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کام کی جگہوں پر مذہب کا کردار بڑھایا جائے تاہم وہ برقعہ اور ایک سے زائد شادیوں کے خلاف نظر آئے۔

نظرات بینندگان
captcha