ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق اس حوالے سے ہونے والے تازہ ترین سروے کے مطابق خود کو مسلمان کہنے والے زیادہ تر لوگوں نے عوامی مقامات پر مذہبی تفریق پر مبنی عمل پر پابندی کو تسلیم کیا۔
تاہم 60 فیصد مسلمانوں کا خیال تھا کہ لڑکیوں کو اسکول میں اسکارف پہننے کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ 24 فیصد مسلمانوں نے کہا کہ وہ برقعہ یا نقاب کرنے کے حق میں ہے۔
واضح رہے کہ فرانس میں 2010 میں عوامی مقامات پر برقعہ یا چہرے کو مکمل طور پر نقاب سے ڈھکنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
سروے رپورٹ میں انسٹی ٹیوٹ مونتائگنے نے فرانسیسی مسلمانوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا، مکمل طور پر سیکولر، عوامی مفاد میں مذہب پر پابندیوں کو تسلیم کرنے والے اور رجعت پسند جو مذہب کو بغاوت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
سیکولر کیٹگری میں شامل افراد کی تعداد 46 فیصد رہی جن کا کہنا تھا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو مسترد نہیں کرتے لیکن اپنے مذہبی جذبات کا اظہار حلال کھانے کا خیال رکھ کر کرتے ہیں۔
دوسرے گروہ میں 25 فیصد افراد شامل تھے جو خود کے مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کام کی جگہوں پر مذہب کا کردار بڑھایا جائے تاہم وہ برقعہ اور ایک سے زائد شادیوں کے خلاف نظر آئے۔