
ایکنا نیوز- روزنامه «لاسانجلس ٹایمز» کے مطابق مختلف تحقیقاتی مراکز کے سروے میں معلوم ہوا ہے کہ کیلفورنیا میں مسلمانوں کے حوالے سے نفرت کی فضا اور تعصب میں شدید اضافہ ہورہا ہے۔
کیلفورنیا سمیت امریکہ بھر میں اسلام مخالف واقعات میں اچانک تیزی کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں۔
مختلف سیاست دانوں بالخصوص صدارتی امید وار«ڈونالڈ ٹرامپ» کی تقاریر اور مسلمانوں کو امریکہ میں داخلے سے روکنے کی باتیں ان وجوہات میں شامل ہیں۔
یورپی ممالک میں داعش کے حملوں اور انکو اسلام سے جوڑ کر میڈیا پروپیگنڈہ بھی ایک اہم وجہ بتائی جاتی ہے
سروے مرکز کے ڈائریکٹر برایان لوین کا کہنا ہے : برنارڈینو میں حملے کے واقعے کے بعد مسلمانوں سے نفرت کی فضاء اور تعصب میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
سروے ڈیٹا سے ہٹ کر نفرت انگیز واقعات کی تعداد اس سے کافی زیادہ ہے کیونکہ اکثر مسلمان جرائم کی شکایت کے نتیجے سے مایوسی کی وجہ سے رپورٹ بھی درج نہیں کراتے۔
رپورٹ کے مطابق بیس ریاستوں کے سروے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرایم کے واقعات میں ۷۸ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی نفرت انگیز تقریر کے بعد یہ ریشو بڑھکر ۸۸ فیصد تک جاپہنچا ہے ۔
سروے مرکز کے ڈپٹی ڈایریکٹرکوین گریشام کا کہنا ہے کہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ سیاست دانوں کے خطابات کسقدر جرایم بڑھانے میں موثر ہوتے ہیں۔