
ایکنا نیوز-عراق کے صوبہ بصری سے تعلق رکھنے والا ہونہار نو سالہ طالب علم «سیف مصطفی لطیف» نے آٹھ سال کی عمر میں ایک مقامی قرآنی مرکز میں حفظ کرنے کی مشق شروع کی اور صرف ایک سال بعد عراق کے سب سے کم عمر حافظ بننے کا اعزاز حاصل کیا
سیف مصفطی کے والد «مصطفی لطیف» کا کہنا ہے : سیف کا ایک منظم پروگرام تھا اور وہ ہر روز اسکول سے آکر پانچ گھنٹے تک قرآنی مرکز میں حفظ کی مشق کرتے اور پھر گھر آکر تین گھنٹے مزید دہرائی کرتا رہا ہے۔
سیف کے استاد «حمزه صباح جاسم» کا کہنا ہے : سیف ایک خاص لگن کے ساتھ حفظ قرآن میں مگن رہتا تھا
آستانہ حسینی کے پروگرام «هزار حافظ قرآن» کے تحت سیف قرآنی مرکز میں اس مہم کو سرکرنے میں کامیاب رہا ہے ۔
اب تک اس پروگرام کے تحت مختلف صوبوں میں 4600 طلبا حفظ پر کام شروع کرچکے ہیں جنمیں سے 550 مکمل قرآن کو حفظ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
پروگرام «هزار حافظ قرآن» آستانہ حسینی کے تعاون سے قرآنی تعلیمات کی ترویج اور جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔