ایکنا نیوز- شفقنا- تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کی ان وارداتوں میں یقیناغیر ملکی ایجنسیوں کا ہاتھ شامل ہونے کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ فرقہ واریت کا ناسور ہمارا اپنا ہی پھیلایا ہوا ہے۔بھارت کھلم کھلا بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ یہاں لسانی اور مذہبی ہم آہنگی کو برباد کرنے کے لئے کوشاں ہے تو صوبائی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسے عناصر کا قلع قمع کرنے میں کوئی دقیقہ برداشت نہ کرے ۔بتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے، واقعے کی ذمے داری لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کرلی ہے۔ نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پرقتل وغارت کا بازارعرصے سے سرگرم ہے اور تاحال اس پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے، نفرتوں کی ایسی فصل کاشت ہوچکی ہے جسے مکمل طور پر تلف کیے بغیرکوئی چارہ نہیں، سیکیورٹی ایجنسیوں سمیت تمام حکومتی اداروں کو مل کر ایک ایسا پلان تشکیل دینا چاہیے جس سے عام آدمی کے جان ومال کو تحفظ حاصل ہو۔لیکن سانحات کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں خامی موجود ہے جو دہشتگرد معصوم جانوں کو بآسانی نشانہ بنا کر فرار ہوجاتے ہیں، اور پھر ایک کال یا ایک پریس ریلیزکے ذریعے واقعے کی ذمے داری دیدہ دلیری سے قبول کرلی جاتی ہے ۔ کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ کا قتل عام ایک عرصے سے جاری ہے۔ 2008ء سے اب تک قبیلے کے 300سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا گیا ہے
کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری کے 83 ارکان کے بم دھماکوں میں قتلِ عام کی واردات پر ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ حالیہ برسوں میں شہر کے ہزارہ ٹاؤن میں اس قسم کے متعدد حملے ہوئے ہیں جِن کے لیے سنی انتہا پسند موت کے سوداگروں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ شیعہ برادری میں عدم تحفظ اور لاچارگی کے بڑھتے ہوئے احساس کی ترجمانی ملک کے لیڈروں کے بیانات سے ظاہر ہے۔ ایک شیعہ لیڈر علامہ اصغر عسکری نے ملک کے امن نافذ کرنے والوں کو اسلام آباد میں ایک تقریر میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر امن و امان کے ذمہ دار لوگوں نے نیک نیتی سے عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھوں کے خلاف کاروائی کی ہوتی تو ہمیں یہ دِن دیکھنا نہ پڑتا۔ حقیقت یہ ہے کہ حملہ آور عسکریت پسندوں کی بھاری تعداد مستونگ ضعلے میں موجود ہے اور یہ کہ فرنٹیئر کور نے اُن کے اِس مضبوط گڑھ کے خلاف کاروائی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی ہے باوجود یہ کہ اُنھیں معلوم ہے کہ ظلم کون ڈھا رہا ہےاور امن کا نفاذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ عہدے داروں نے کھوکھلی یقین دہانیوں کے علاوہ کوئی کاروائی نہیں کی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ’دو ہمسایہ ممالک کی دشمنی کا بدلہ شیعہ برادری سے لیا جا رہا ہے۔‘ تاثر یہ ہے کہ شیعہ ہزارہ برادری دونوں ملکوں کے درمیان پراکسی وار کا شکار ہو رہی ہے۔ عبدالخالق کے مطابق اس جمہوری دور میں تو تشدّد کی حد ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خالصتاّ مسلکی اور فرقے کی بنیادوں پر قتل عام ہے، اسے نسلی رنگ دینا غلط ہوگا‘۔
وادی کوئٹہ کے مشرقی دامن مری آباد اور مغربی علاقے ہزارہ ٹاؤن میں رہنے والے شیعہ ہزاروں کی آبادی پانچ لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے اور شہر میں دہائیوں سے آباد ان ہزاروں کو اب ان کے علاقوں تک ہی محدود کر دیا گیا ہے۔کالعدم لشکر جھنگوی ہزارہ شیعہ برادری کے خلاف ہونے والے اکثر واقعات کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور ہر واقعے کے بعد مزید کارروائیوں کی دھمکی بھی دی جاتی ہے لیکن پنجاب میں بننے والا لشکر جھنگوی بلوچوں میں کیسے مقبول اور موثر ہوگیا اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔