
ایکنا نیوز- «الجزیره نیٹ» کے مطابق الجزایر کے تدریسی نصاب میں تبدیلی کے باوجود قرآنی مدارس کو جوان نسل کی تربیت کے حوالے سے اہم قرار دیا جاسکتا ہے
ملک میں ایک طرف اسکول کے نصاب کو مغربی طرز تعلیم کی روش کی تقلید کی سازش قرار دی جاتی ہے اور دوسری سمت قرآنی مدارس سے وابستگی میں مزید اضافہ دیکھا جاتا ہے اور رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں ڈھائی ہزار سے زیادہ قرآنی مراکز کام کررہے ہیں ۔
قرآںی مراکز جہاں تربیت کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے وہی ان مراکز میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے والدین اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں کہ قرآنی مدرس میں کہیں ان کے بچوں کو شدت پسند نہ بنایا جائے۔
الجزایر کے وزیر برائے مذہبی امور «محمد عیسی» اس حوالے سے خبردار کرچکا ہے۔
وزیر اوقاف کے سابق مشیر«عده فلاحی» کا کہنا ہے کہ مساجد سے الگ اور مستقل ہونے کے بعد سے ان مدارس میں شدت پسندی کی ترویج کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے جہاں سلفی طرز کے افراد پیسے لگا کر اپنے افکار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔
عده فلاحی نے دعوی کیا ہے کہ ان حالات میں ایک طبقہ تشیع پھیلانے کے لیے کام کررہا ہے اور ان میں ٹکراو کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان موجود ہے ۔
انکا کہنا تھا کہ ملک میں اگرچہ بعض مدارس حکومت کی زیرنگرانی کام کرتے ہیں مگر بہت سے مدارس مستقل اور آزاد ہیں اور ان میں بگاڑ کا خطرہ موجود ہے ۔
وزارت اوقاف کا کہنا ہے کہ انجمن علما شدت پسندی پھیلانے میں ملوث ہے جبکہ انجمن کے اراکین نے واضح کیا ہے کہ وہ شدت پسندی کے خلاف جوانوں کو بچانے کے لیے کام کررہے ہیں اور بہتر ہے کہ حکومت قرآنی مدارس کی بجایے پرائیویٹ اسکولوں کی نظارت پر توجہ دے ۔