
ایکنا نیوز- ایکسپریس نیوز کے مطابق آفتاب سلطان نے قائمہ کمیٹی کوانٹیلی جنس بیورو کی کارکردگی،کام کے طریقہ کار، بجٹ، دہشتگردی کیخلاف کیے جانیوالے اقدامات کے معاملات پربتایاکہ کراچی اور خیبر پختونخوا کے بعد صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی آپریشن شروع کیے جا رہے ہیں،کسی بھی فردکے لاپتہ ہونے میں شامل نہیں، ہمارا کام صرف معلومات فراہم کرنا ہے۔
آفتاب سلطان نے یہ بھی تسلیم کیاکہ 1992کے کراچی آپریشن کے بعدانٹیلی جنس بیوروکوسلادیا گیا تھا۔ مگر وزیراعظم پاکستان نے ایک دفعہ پھر ادارے کو بھرپور منظم کیا ہے اوربہت سے مسائل حل کیے ہیںجس سے کارکردگی میں نمایاں بہتری ہوئی۔آئی جی رینجرزنے کہا کہ انٹیلی جنس بیوروکی معلومات کی بدولت دہشت گردی کی کنٹرول میں نمایاں مددملی ہے