
ایکنا نیوز- اسکایی نیوز کے مطابق «تیمورلنگ» کے پندرہویں صدی سے متعلق قرآنی نسخے کو قدیم ترین اور نایاب ترین قرآنی نسخہ کہا جاتا ہے جس کو ایک دستی چراغ کی مانند اٹھایا جاسکتا ہے.
اس مصحف کے دو صفحے واشنگٹن کی قرآنی نمائش بعنوان« قرآنی آرٹ: اسلامی اور ترک میوزیم کے فن پاروں کا خزانہ» میں رکھے گیے ہیں۔
تیمور کے قرآن کے ہر صفحے دو میٹر پر مشتمل ہے اور بڑے حروف میں خطاطی کی گئی ہے۔
قرآنی نسخوں کی ماہر «معصومه فرهد» کا اس حوالے سے کہنا ہے : اس قرآن کی داستان عجیب ہے ایک خطاط نے تیمور کو ایک جلد قلمی قران مجید تحفے میں پیش کیا جو بہت چھوٹا تھا اور تیمور کو یہ بہت عجیب لگا ۔
اس کے بعد مذکورہ خطاط «عمر اقطع» نے بہت بڑا نسخہ خطاطی کرنا شروع کیا اور اس بار جب تیمور کو پیش کیا تو انہیں بہت اچھا لگا اور اس خطاط کو خوب نوازا۔
تیمور گورکان [۲] (۷۷۱ - ۸۰۷ ه.ق. / ۱۳۳۶ - ۱۴۰۵ م) جو تیمور لنگ کے نام سے معروف ہے، گورکانی(تیموری) سلسلے کا پہلا بادشاہ شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے مرکزی اور مغربی ایشایی ممالک پر بادشاہی کی ہے ۔
ازبکی زبان میں تیمور کا معنی " لوہا " ہے اور تیمور بادشاہ کو «امیر تیمور»، «تیمور لنگ»، «تیمور گورکان» اور «صاحبقران» کے القاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے
واشنگٹن میں قرآنی نمایش ترک وزارت ثقافت و سیاحت کے تعاون سے منعقد کی گئی ہے جسمیں قدیم ترین قرانی نسخے رکھے گیے ہیں ۔
واشنگٹن میں قرآنی نمایش «اسمیٹسونیان» کمپلیکس کے «آرٹور. ام ساکلر» ہال میں جاری ہے ۔