
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی ورکرز کنونشن کو روکنے کے لیے دفعہ 144 کا استعمال کیا اور جمعرات کو کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تاہم جمعے کو اہل سنت والجماعت نے باآسانی اپنے سالانہ کانفرنس کا انعقاد کیا جس کے نتیجے میں کئی حلقوں نے حکومت پر دہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کردیا۔
اہل سنت والجماعت اسلام آباد چیپٹر کے ترجمان حافظ اُنیب فاروقی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک روایتی پروگرام تھا جیسا کہ محرم کی مناسبت سے اجتماعات اور مجالس ہوتی ہیں، لہٰذا دفعہ 144 کا نفاذ اس پر نہیں ہوتا‘۔
عہدے دار نے بتایا کہ ’عام طور پر روایتی تقاریب کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن انتظامیہ کے کچھ اصول و ضوابط ہیں اور ہم نے منتظمین سے کہا تھا کہ وہ ان کا خیال رکھیں کہ اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی تقریب جلتی پر تیل کا کام نہیں کرے گی اور اسے حکومت کے خلاف استعمال نہیں کریں گے‘۔
تاہم اس تقریب میں دفاع پاکستان کونسل (ڈی پی سی) نے شرکت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ بم دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں پارٹی کے کئی کارکن ہلاک ہوئے لیکن اس کے باوجود اہل سنت و الجماعت کبھی سڑکوں پر نہیں آئی۔
مولانا لدھیانوی نے عمران خان اور شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ دونوں سے یہ کہتا ہوں کہ آپ رکن اسمبلی ہیں جو ملک میں اعلیٰ ترین فورم ہے لیکن پھر بھی آپ اپنا مقدمہ سڑکوں پر لڑ رہے ہیں‘۔
علاوہ ازیں یہ افواہیں بھی گردش کررہی تھیں کہ جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ سعید بھی اہل سنت و الجماعت کے اجتماع میں شرکت کریں گے تاہم وہ پارٹی کے ایک سینئر عہدے دار نے ڈان کو بتایا کہ اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ کانفرنس میں جماعت الدعوۃ کی نمائندگی نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ ’اگر اسلام آباد کی صورتحال کشیدہ نہ ہوتی تو بھی حافظ سعید اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرتے اور اس کی وجہ اس کا فرقہ وارانہ مزاج ہے، ہم نے اس معاملے پر دفاع پاکستان کونسل اور دیگر فورمز پر بھی زور دیا ہے کہ فرقہ واریت کا خاتمہ ہونا چاہیے‘۔