ایکنا نیوز-
کویٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ اور مجلس وحدت کے مرکزی رہنما
سید ہاشم موسوی نے کہا :کراچی میں پولیس اسٹیشن اور رینجرز چیک پوسٹ کے صرف چند گز
کے فاصلے پر ہونے کے باوجود دو موٹر سائیکل سواروں نے ایک گھر میں جاری مجلس
عزاءپر فائرنگ کرتے ہوئے خواتین سمیت 6 بے گناہ شہریوں کو شہید اور 7 افرادکو ذخمی
کرکے فرار ہوجاتے ہیں اور ہمارے ادارے صرف تماشائی کا رول ادا کرتے نظر آتے ہیں۔
اسی طرح چند روز قبل سریاب روڈ
کوئٹہ میں واقع پولیس ٹریننگ کالج میں تین دہشتگرد گھس کر بڑے آرام سے 60 پولیس
کیڈیٹس کو شہید اور درجنوں کی تعداد کیڈٹس کو زخمی کر دیتے ہیں۔کراچی اور کوئٹہ کے
ان پے در پے واقعات کی مذمت کے لئے اب تو الفاظ بھی باقی نہیں بچے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ
سے مسلسل دھشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور وطم عزیز خصوصاً کوئٹہ
و کراچی کی سرزمین پھر سے بے گناہ شہریوں کے خون سے لہو لہان ہو چکی ہے۔ہر سانحہ
کے بعد حکومت ،پولیس، رینجرز اور ایف سی ایک ہی رٹ لگائے ہوئے بیانات جاری کرتے
ہوئے بلندو بانگ دعوے کرتے ہیں کہ سانحے میں ملوث دہشتگردوں کو نشان عبرت بنا دیا
جائے گا۔ ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ دہشتگردوں کی کمر
توڑ دی ہے۔ دہشتگردوں کے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ وہ کسی بھی ملک میں امن سے نہیں
رہ سکیں گے۔جب تک یہ اپنے بیانات دینے میں مصروف ہیں دہشتگرد ایک اور بڑا واقعہ
کرکے حکومت اور سیکورٹی اداروں کءخالی خولی بیانات اور بلند و بانگ دعووں کی قلعی
کھول دیتے ہیں۔سانحہ کراچی ، سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ، سانحہ پی ٹی سی اور پورکلی
چوک پر معصوم خواتین کو شہید کرنے کا سانحہ کیا حکومت اور ریاستی اداروں کی ناکامی
کا منہ بولتا ژبوت نہیں ہیں؟ ہر سانحے کے بعد ریاستی ادارے یہ کہہ کر اپنے آپ کو
بری الذمہ قرار دیتے ہیں کہ دہشتگرد ی کے ان واقعات کے تانے بانے ہمسایہ ملک سے
ملتے ہیں ۔ میں حکومت اور اداروں سے یہ سوال کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے تانے بانے
کسی سے بھی ملتے ہو کیا اسکے سدباب کرنے میں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟ کیا
ہم صرف تماشادیکھتے رہیں اور اس بات کی اجازت دے کہ ہمارے دشمن ہمارے ملک کے امن و
امان تہس نہس کریں۔
سید ہاشم موسوی نے کہا : سانحہ
اے پی ایس کے بعد قوم پر امید تھی کہ اب دہشتگردوں کی بیخ کنی کی جائے گیاور نیشنل
ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کے مراکز، ان کے نرسریوں اور سہولت کاروں کے خلاف
بھرپور کاروائیاں کی جائے گی اور وطن عزیز اب دہشتگردی کی عفریت سے پاک ہوگا لیکن
افسوس کہ حکومت اور ادارے دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ عوام کو طفل
تسلیاں دینے کے لئے شروع میں چند ایک بدنام زمانہ دہشتگردوں کو مارا گیا لیکن
دہشتگرد پیدا کرنے والی فیکٹریوں اور ان کے مالکان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی
گئی۔ قوم کو بتایا جائے کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد سے لیکر آج تک دہشتگردی کے کتنی
فیکٹریاں بند کی گئی ہیں۔ کتنے مدارس کی رجسٹریشن کرکے ان کے نصاب کو درست کروایا
گیا؟ دہشتگردوں کے کتنے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی کی گئی؟ کیا آج تک کوئی ایک
بھی سہولت کار گرفتار کیا گیا ہے؟
معزز صحافی حضرات!
لگتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے
تحت دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور دہشتگردوں کے خلاف آواز بلند کرنے
والی متاثرہ محب وطن شخصیات اور قوم کو نیشنل ایکشن پلان کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اور ان کی زبان بندی کیلئے بیلنس پالیسی کے تحت ان کے نام شیڈول فور میں شامل کر
دیا گیا ہے۔ برزگ عالم دین اور سماجی ورکر علامہ شیخ محسن علی نجفی جو عبدالستار
ایدھی مرحوم جیسی ایک شخصیت ہیں کو کس جرم میں شیڈول فور میںڈالا گیا ہے ۔ اسی طرح
علامہ امین شھیدی، علامہ نئیر عباس مصطفوی ، علامہ مقصود علی ڈومکی و دیگر ان جیسی
پر امن اور اتحاد بین المسلمین کے داعی شخصیات کو کس جرم میں شیڈول فور میں شامل
کیا گیا ہے۔
بیلنس پالیسی حکومت اور اداروں
کی دہشتگردی کے خاتمے میں غیر سنجیدگی کا نیتجہ ہے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو
خوش کرنے کیلئے بیلنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور یہ پالیسی حکومت اور اداروں کی
دہشتگردوں سے خوف کی علامت ہے۔ اس پالیسی کے تحت ظالم و مظلوم ، قاتل اور مقتول کو
ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے۔ جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ بیلنس پالیسی کے ذریعے
نیشنل ایکشن پلان کو متنازعہ بنا کر دہشتگردوں کو ریلیف فراہم کی جارہی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا : یہ دہشتگرد
خواہ کسی بھی روپ میں کیوں نہ ہو۔ صرف ایک قوم یا مکتب فکر کے دشمن نہیں بلکہ یہ
ہم سب کا مشترکہ دشمن ہے ، یہ وطن عزیز کے دشمن ہیں ۔ عوام نے تو انہیں اپنا دشمن
تسلیم کر لیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ حکومت بھی انہیں اپنا اور وطن عزیز کا
دشمنتسلیم کرتے ہوئے انکے خلاف بے رحم کاروائیاں عمل میں لاتے ہوئے انکی بیخ کنی
کرے اور نیشنل ایکشن پلان کا رخ بے گناہ افراد سے ہٹا کر صرف اور صرف دہشتگردوں ،
مجرموں اور انکے سہولت کاروں کی طرف موڑ دیا جائے۔ سانحہ کراچی اور کوئٹہ کو حکومت
قصہ پارینہ نہ بناتے ہوئے ملوث افراد اور دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر
انہیں واقعی عبرت کا نشان بنائے