
ایکنا نیوز- شفقنا- بعض حلقوں کے مطابق رینجرز نے جرائم پر قابو پا لیا تھا۔ جرائم پیشہ پکڑ لیے گئے تھے یا بعض شہر چھوڑ گئے‘ لیکن جب سندھ حکومت کی طرف سے رینجرز کے اختیارات اور میعاد میں توسیع پر لیت و لعل ہونے لگی تو جرائم پیشہ طبقے کے حوصلے بڑھے اور انہوں نے پھر اپنی پناہ گاہوں اور بلوں سے سر نکالنا شروع کر دیا۔ سندھ حکومت کی پالیسی سے نہ صرف‘ رینجرز آپریشن طویل ہوا‘ بلکہ اس کے دبدبہ پر بھی اثر پڑا۔ سندھ کی صوبائی حکومت کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ اگر کراچی میں امن و امان کا مسئلہ دوبارہ خراب ہوا تو اس پر قابو پانا بہت مشکل ہو گا۔ جہاں تک خواتین کی مذکورہ مجلس عزا کا تعلق ہے۔ دہشت گردوں کا حملہ ظاہر کرتا ہے کہ سکیورٹی کے انتظامات بالکل ہی نہیں تھے۔ اگر پولیس نے اہلخانہ کی درخواست نظرانداز کی تو یہ رویہ مجرمانہ غفلت میں شمار ہو گا اور اگر اہلخانہ نے علاقہ پولیس کو مجلس کے انعقاد کی اطلاع نہیں دی تھی تو بھی پولیس کو اپنے طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ اُن کے علاقے میں کہاں کہاں اور کیسی کیسی تقریبات ہو رہی ہیں۔ دہشت گردوں کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے پولیس اور عوام میں قریبی رابطہ بہت ضروری ہے۔ در اصل ان سبھی وارداتوںکے پیچھے ایک ہی دہشت گرد گروپ کا ہاتھ ہے جسے حکومت نے شعیہ کمیونٹٰی کا قتل عام کرنے کے لیے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ یہی جماعت ملک میںفرقہ واریت پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہے اور اب تو اس کے رابطے را اور بدنام زمانہ داعش کے ساتھ بھی سامنے آئے ہیں۔ ایسی صورتحال میںاس دہشت گرد جماعت کو کھلی چھٹی دینا نہ صرف شیعہ کمیونٹی بلکل اس ملک کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔