ایکنا نیوز-ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں گفتگو کرتے ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ 'اب تک حکومت کالعدم تنظیموں کے خلاف مقدمات درج نہیں کرسکی، کیونکہ وہ اس بارے میں کوئی صفائی پیش کرنا ہی نہیں چاہتی'۔
انھوں نے رواں ماہ 2 نومبر کو تحریک انصاف کے جلسے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی، لیکن ایک کالعدم جماعت نے کھلے عام راولپنڈی میں جلسہ کیا۔
عارف علوی کا کہنا تھا کہ حکومت کا ان کالعدم تنظیموں کے خلاف کوئی واضح مواقف نہ رکھنا بظاہر مغرب کا مفاد ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں بہت سی تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی وجہ فوج نہیں، بلکہ خود حکومت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان ہی مقاصد کے لیے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان راتوں کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں کرتے تھے ، لیکن جو کچھ یہ چاہتے تھے وہ ہو نہ سکا۔
عارف علوی کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف الزامات موجود ہیں، لیکن حکومت کوئی حتمی قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔
خیال رہے کہ نیکٹا کی ویب سائٹ پر موجود فہرست کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک 63 تنظیموں پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔
اس فہرست میں حالیہ اضافہ اُس وقت ہوا جب دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ جماعت الاحرار اور کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نامی دونوں تنظیمیں فرقہ وارانہ دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف ہیں، شہر کراچی میں بھی گزشتہ دنوں اس قسم کے حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی جن میں سے اکثر میں لشکرِ جھنگوی العالمی ملوث تھی۔
جس کے بعد وفاقی حکومت نے دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث 2 مزید جہادی تنظیموں جماعتِ الاحرار اور لشکرِ جھنگوی کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔
جماعت الاحرار رواں سال مارچ میں پشاور میں امریکی قونصلیٹ کے 2 پاکستانی ملازموں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے، بعد ازاں اس گروپ نے رواں سال 27 مارچ کو ایسٹر کے موقع پر لاہور کے گلشن اقبال پارک میں بھی خودکش دھماکا کیا، جس میں 70 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔