
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق برما کی رہنما آنگ سان سوچی کو میانمار فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق تحقیقات کی ناکامی پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
حکومت کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں کی تفتیش کے لیے 13 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے مسترد کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق میانمار کی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی میں ایک بھی مسلم نمائندہ شامل نہیں، جبکہ اس کی سربراہی نائب صدر میئنت سوے کر رہے ہیں، جو امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے گئے ریٹائرڈ فوجی جرنل ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم فورٹی فائیو رائٹس کے چیف ایگزیکٹو میتھیو سمتھ نے حکومتی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میانمار حکومت اگر فوج کے کسی اور آدمی کی سربراہی میں بھی دوسری کمیٹی تشکیل دے گی تو بھی اسے قبول کیا جائے گا۔
ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے ڈپٹی ڈائریکٹر فل رابرٹسن کا کہنا ہے کہ کمیٹی خود مختار نہیں ہے، جس وجہ سے وہ آزادی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیق نہیں کرسکتی۔
آنگ سان سوچی کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ تحقیقاتی کمیشن فوج کی جانب سے لاک ڈاؤن کیے جانے، پولیس کی جانب سے بارڈر پر چھاپوں اور تمام عالمی الزامات کی تحقیقات کرے گی۔
میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم و استحصال کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان تحقیق کے لیے راکھائن پہنچنے تو لوگوں نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا ، کمیشن کے ممبر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ کمیشن نے دورے کے دوران حقائق جمع کیے مگر تاحال کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکا۔