
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «OUDaily» کے مطابق اوکلاہوما یونیورسٹی کے طالب علم انجنیر معین القحیف کا کہنا ہے : مسلمان طلبا کے لیے نماز خانے کی اشد ضرورت تھی اور اس کی تعمیر سے ہماری بڑی مشکل حل ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا : اس سے پہلے ہم لایبریری کے تنگ راستوں پر مشکل سے نماز ادا کرتے تھے مگر لاییریری انتظامیہ نے مسلمان طلبا کی درخواست پر دوسری منزل پر ایک کمرے کو نماز خانہ بنانے کی اجازت دے دی۔
اوکلاہوما یونیورسٹی کے شعبہ ادیان کے استاد چارلز کیمبل کا اس حوالے سے کہنا ہے: نماز اسلام میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور ایک مسلمان فرد کے لیے نماز اور اپنے رب سے خصوصی راز ونیاز کرنا لازم ہے اور اس نماز خانے کی وجہ سے انکا اہم مسلہ حل ہوگیا ہے۔
کیبمل کا کہنا ہے : یونیورسٹی میں سب کو اطمینان کا احساس دلانا ضروری ہے اس طرح مذاہب میں ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا ۔