ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «seattletimes» کے مطابق انڈّونیشین ڈیزاینروں کے تعاون سے اسلامی لباس کی نمایش منعقد کی گئی ہے جو ایک ہفتے تک جاری رہے گی
نمایش گاہ انچارج«شیرین عباس» کا کہنا ہے : مسلمانوں اور خواتین کے لباس بارے غلط تصورات پائے جاتے ہیں اور اس نمایش کے زریعے ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انکا کہنا ہے : ممکن ہے کہ مغرب نے چند ان پڑھ اور سادہ لوح مسلمان خواتین کو دیکھی ہو مگر اس نمایش گاہ میں انہیں ڈایزاینر اور ڈاکٹر خواتین سے آشنائی کا موقع ملے گا.
واشنگٹن کے «هینری جیکسن» مطالعاتی مرکز کے رکن اور میڈل ایسٹ امور کے ماہر «ریسٹ کازابا» کا کہنا ہے کہ اسلامی لباس کی مانگ میں اضافے کی اہم وجہ اسلامی آبادی میں اضافہ اور انکی درآمد میں افزایش بھی ہوسکتی ہے۔
اسلامی لباس کی ڈیزاینر سبیکا مخدوم کا کہنا ہے : واشنگٹن میں میرے کافی دوست اسلامی لباس کے بارے میں نہیں جانتے اور مجھ سے سوال پوچھتے ہیں کہ اس لباس کی خاصیت کیا ہے اور کافی وقت لگتا ہے تاکہ میں انہیں سمجھا سکوں کہ اسلامی لباس میں کیا فلسفہ چھپا ہوا ہے ۔

