ایکنا نیوز- شفقنا -شبستان نیوز سے گفتگو میں انہوں نےمزید کہا ہے کہ جب انگلستان کی وزیراعظم خلیجی تعاون کونسل کےاجلاس میں آتی ہے اوردیکھتی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ برسرپیکار ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تجارت کرنے اورانہیں مزید اسلحہ فروخت کرنے کے لیے ایران کے مقابلے میں ان کی حمایت کرتی ہے۔ لہذا برطانوی وزیراعظم کا یہ نقطہ نظرایک قدرتی بات ہے تاہم سفارتی لحاظ سے انگلستان کی وزیر اعظم کا یہ اقدام ایک غلط اقدام ہے۔
بخشایش نے اس بات پرزوردیا ہےکہ سفارتی لحاظ سے مختلف ممالک کو ایک ممالک کےخلاف اکسانا ایک غلط اورنادرست اقدام ہے اوربرطانوی وزیراعظم نے اپنے اس اقدام کے ذریعے اپنی اصلیت اورذات کو دکھایا ہے۔
انہوں نےمزید کہا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ انگلستان تجارتی معاملات میں امارات، قطر اور سعودی عرب سے بہت زیادہ منافع حاصل کرسکتا ہے لیکن سفارتی اصولوں کو پامال کرنا صحیح نہیں ہے اورتمام ممالک کو اپنے سفارتی اصولوں کا پابند ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایک اوراہم نکتہ یہ ہے کہ ایران ایک انتہائی طاقتورملک ہے لہذا جب وہ خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتی ہے تو وہ ایران کے بارے میں کچھ نہ کہنے سے نہیں رک سکتی ہے اوریہ چیز خطے بالخصوص پرشین گلف میں ایران کے اثرورسوخ کی علامت ہے۔