ایکنا نیوز- شفقنا- اتوار کو سعودی وزیرِ دفاع محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران آرمی چیف نے وہاں مقاماتِ مقدسہ اور سعودی عرب کی جغرائیائی وحدت کی حفاظت کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کے آرمی چیف کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پورے خطے میں ایران کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے جس سے سعودی عرب کو پریشانی لاحق ہے۔
عراق کی موجودہ حکومت بھی ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کئے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں حزب اللہ ایران کا بہترین اتحادی ہے جب کہ شام میں بشارالاسد اور یمن میں حوثیوں کی پوزیشن بھی مضبوط ہو رہی ہیں جس سے سعودی عرب پریشان دکھائی دیتا ہے۔
اس تمام تر صورتِ حال کے باعث سعودی عرب پریشان ہے اور ریاض محسوس کر رہا ہے کہ سعودی مخالف عناصر اس کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔
سعودی عرب اس پریشان صورتِ حال میں کس سے مدد کی توقع کر سکتا ہے؟ اسے یقین ہے کہ پاکستان ہی سعودی عرب میں آل سعود کی بادشاہت کی مدد کر سکتا ہے۔
اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں شریف فیملی کے سعودی گھرانے سے ذاتی تعلقات ہیں، سعودی عرب پاکستان کے لیے زرِ مبادلہ کا ایک ذریعہ بھی ہے اور کئی پاکستان کی کئی انتہا پسند مذہبی جماعتوں کی ہمدردیاں بھی اس عرب ریاست کے ساتھ ہیں۔
لیکن کیا واقعی ایران سعودی بادشاہت کے لیے خطرہ ہے؟ کیا حوثی سعودی عرب پر حملہ کر دیں گے؟ کیا پاکستان واقعی سعودی عرب کی مدد کو پہنچے گا؟
اگر دیکھا جائے تو ایران خطے میں دانشمندی سے اپنی خارجہ پالیسی کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے اور ایسا ہرگز نہیں لگتا کہ ایران کوئی ایسا قدم اٹھائے گا جس سے جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو۔
سعودی عرب کی یمن پر جنگ نے یمنیوں کی غربت میں وہ خونی زخم لگائے جنہیں وہ صدیوں بھلا نہ پائیں گے۔ یمن میں نہتے لوگوں کا قتل عام اب بھی جاری ہے جس سے سعودی عرب مستقبل کی نفرتیں خرید رہا ہے۔
ایسی صورتحال میں پاکستان کو انتہائی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہو گا۔ پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے چاہیں نہ کہ عرب باشندوں کی خواہشات کی تکمیل میں دن رات ایک کرنا چاہیے۔
پاکستان کے اندرونی حالات انتے مضبوط نہیں کہ وہ سعودی عرب کی کوئی ایسی ڈیمانڈ پوری کرے جس کا وہ حق دار نہیں یا جس سے پاکستان کے اندرونی حالات مزید خراب ہوں۔
مقامات مقدسہ کی حفاظت سب مسلمانوں کا فریضہ ہے اور اس کا عملی نمونہ ایران نے شام اور عراق میں مقامات مقدسہ کی حفاظت کر کے دکھایا ہے۔ جبکہ سعودی عرب کو یہ لگتا ہے کہ حوثی ایران کی مدد سے مکہ اور مدینہ پر چڑھ دوڑیں گے جو ایک سفید جھوٹ ہے اور امت مسلمہ کو بے وقوف بنانے کا طریقہ ہے۔ سعودی عرب کو اس وقت اگر کوئی خطرہ لاحق ہے تو وہ آل سعود کی بادشاہت کی بقا ہے، تو کہنا پڑے گا، دفاع حرمین شریفین تو ایک بہانہ ہے صاحب! مسئلہ آل سعود کی بادشاہت کا ہے