
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «college.usatoday» کے مطابق امریکی ریاست ٹینسی کی (ETSU) یونیورسٹی کے طالب علم «ویلیم ریو» اسلام قبول کرنے کے بارے می کہتا ہے : طالبعلمی کے زمانے میں میرے زہن میں سوالات پیدا ہوتے تھے جبکہ عیسایی مذہب میں ان سوالات کے تشفی بخش جوابات مجھے نہیں مل رہے تھے۔
انکا کہنا ہے : ایک مسلمان دوست کے توسط سے جانسن سٹی کی مسجد کے امام تنعیم عزیز سے میری ملاقات ہوئی
جنہوں نے اسلام کے حوالے سے خوبصورت بیانات اور کتابوں کے زریعے سے میری رہنمائی کی ۔
ویلیم ریو کہتا ہے کہ قرآن میں جس انداز اور خوبصورتی کے ساتھ خدا کی ذات کے بارے میں آیات موجود ہیں اس سے میں بیحد متاثر ہوا ۔
انکا کہنا ہے کہ اسلام تاکید کرتا ہے کہ نہ صرف اپنے جسم بلکہ اپنی سوچ اور باطن کو بھی صاف کرنا چاہیے۔
ریو کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اب تک اس کتاب میں تحریف نہیں ہوئی ہے اور قرآن مجید کے حوالے سے کم از کم دو مہینے کی تحقیق کے بعد میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا
انکا کہنا ہے کہ بہت دشوار ہے جب آپکو معلوم ہوجائے کہ آپکی گذشتہ زندگی کا راستہ درست نہ تھا
اور پھر مسلمان ہونے کے بعد آپکو رشتہ داروں سے سخت رویہ نظر آئے گا جو مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے
ریو کہتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ بعنوان مسلمان مجھے کیا کرنا چاہیے اور میرے ساتھ کیا ہوگا ؟
میں صبح اٹھ کر نماز پڑھتا اور سور کا گوشت نہیں کھاتا تو میرے رویے میں تبدیلی کو والدین نے محسوس کیا مگر میں نے گھر میں اختلافی بحث چھیڑنے سے گریز کیا
ویلیم کی ماں«ربکا ریو» کا اس بارے میں کہنا ہے کہ میں ہمیشہ انہیں نصیحت کرتا کہ درست راستے کا انتخاب کرے اور مجھے لگ رہا ہے کہ انہوں نے درست راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔
ریو اکنون اس وقت امریکی ریاست ٹینسی کی (ETSU) یونیورسٹی کی مسلم انجمن کے صدر ہے اور نماز جمعہ میں باقاعدگی سے شرکت کررہا ہے
انکے درست رفتار اور رویے سے انکے کئی دوستوں کا اسلام کے حوالے سے نادرست تصورات دور ہوچکے ہیں
ریو کا کہنا ہے کہ داعش کی طرح لمبی داڑھی رکھنا ضروری نہیں اور میڈیا کو بھی اسلام کے حوالے سے درست پروپگینڈہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مذہب اور ثقافتوں کی رنگا رنگی کواہم قرار دیا اور کہا کہ جستجو اور تحقیق کی وجہ سے میں مسلمان ہوا ہوں اور امریکن عوام کو اس روش سے استفادہ کرنا چاہیے ۔