
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے « villagevoice» کے مطابق امریکن مسلمان «آدم صالح» نے روزنامه «گارڈین»
سے گفتگو میں کہا :میں نے اپنی والدہ سے ٹیلیفون پر عربی زبان میں گفتگو کی کیونکہ وہ صرف عربی زبان سمجھتی ہے تو ایک مسافر نے اعتراض کیا اور کہا کہ انگریزی میں بات کرے
صالح کا کہنا ہے کہ اپنی والدہ سے گفتگو کے بعد مسافروں کے اطمینان کے لیے اپنے دوست «سلیم الباهر» سے انگریزی میں بات چیت کی مگر مسافروں نے احتجاج کیا اور کہا کہ اگر ہمیں جہاز سے نہیں اتارا گیا تو وہ لوگ جہاز سے اتر جائیں گے.
انکا کہنا ہے کہ ائیرہوسٹس نے لندن پولیس کو ہمارے حوالے سے آگاہ کیا جنہوں نے ہم سے بات چیت کی اور کوئی بھی مشکوک چیز سامنے نظر نہ آئی مگر اسکے باوجود ہمیں جہاز سے اتاردیا
ڈیلٹا ائیرلاینز نے وضاحت کی ہے کہ دیگر مسافروں کے احتجاج کی وجہ سے ہمیں اتارنے پر وہ مجبور ہوا ہے
قابل ذکر ہے کہ چند عرصہ قبل فرانس سے «اوهایو» جانے والے دو مسلمان جوڑے کو اسی جہاز سے «الله» کہنے پر اتارا گیا تھا۔