ایکنا نیوز- شفقنا- داعش یا ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو عراق اور شام میں مشکل حالات کا سامنا ہے اور اُس کے اہم گڑھ موصل پر عراقی فوج نے چڑھائی کر رکھی ہے جبکہ شام میں اُس کی خودساختہ خلافت کے مرکز الرقہ پر بھی امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے لشکری اگلے دنوں میں حملہ آور ہو سکتے ہیں۔
بین ویلیس کا خیال ہے کہ داعش واپس لوٹنے والے اپنے تربیت یافتہ جنگجوؤں کو استعمال کر کے وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کی پلاننگ کر سکتی ہے۔
داعش ایسا کر کے انتہائی بدترین خوف کی فضا قائم کر سکتی ہے کیونکہ جس بھی ملک کے وہ ہوں گے، وہاں وہ انسانوں کی ہلاکت کے منصوبے پر عمل کر سکتے ہیں۔
’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ممکنہ کیمیاوی حملوں کے سدباب کے لیے یورپی حکومتیں تیاری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ داعش نے اگست سن 2015 میں شامی قصبے ماریا میں سلفر گیس کا استعمال کیا تھا۔
اس کے علاوہ داعش نے شام اور عراق کے بہت سارے علاقوں میں بھی کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے مگر مغربی طاقتیں وہ الزام بھی بشار الاسد حکومت پر لگا کر حقیقت سے نظریں چرا رہی ہیں۔
مغربی دنیا بشمول برطانیہ جس خطرے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اس کے سد باب کی بجائے انہی ممالک کو اسلحہ بیچ رہے ہیں جو داعش کے نظریاتی ساتھی ہیں اور یہ اسلحہ بلا واسطہ داعش کے ہاتھوں میں ہی پہنچ جاتا ہے۔
اگر مغربی دنیا کو داعش کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کےاستعمال کا خوف ہے تو اسے نہ صرف داعش بلکہ اس کے نظریاتی ہمنواؤں کے خلاف بھی سخت ایکشن لینا ہوگا۔