
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «seattleglobalist» کے مطابق جمعرات پندرہ جون سے سیاٹل یونیورسٹی واشنگٹن میں ورکشاپ کا آغاز ہوگا ۔ ورکشاپ میں غیر مسلمان بچے اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے اپنے خیالات اور احساسات پیش کریں گے
ان خیالات کو داستان کی شکل میں میڈیا مالکان کو ارسال کیا جائے گا
اس پروگرام کی تجویز امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرایم میں اضافے کے بعد پیش کی گئی ہے
مسلم تنظیم کی رکن «آنیله افضلی» کا کہنا ہے: ایک ایسی اقلیت کو جسکے بارے میں لوگ کم جانتے ہو اسکو وحشی پیش کرنا مشکل کام نہیں ، گرچہ اس وقت امریکہ کی پینتیس فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے.
انکا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑ کر گوشہ نشین کرنا خطرناک اقدام ہے اور مسلم ہراسی ایک خاص شکل اختیار کرتی جارہی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ اس ورکشاپ میں بچوں کو مسلمانوں سے مل جل کررہنے اور ہم اہنگی کا درس دینے کا انتظام کیاجارہا ہے۔