
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «صدی البلد» کے مطابق مصر کے سابق مفتی اعظم علی جمعه، نے مصری چینل کے پروگرام «والله اعلم» پر تحریف قرآن کی سازشوں پر گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ یورپ کے بعض قدیمی قرآن نسخوں میں «جعفر» کو «جفعر» یا سین کی جگہ شین آیت ۱۵۶ سوره اعراف: «قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ» جسمیں «اشاء»، کی جگہ«اساء» لکھا گیا ہے۔
مصری مفتی نے کہا کہ جرمنی میں ایک ادارے نے اس حوالے سے قابل قدر خدمات انجام دیے ہیں اور بہت سے ایسے نسخوں کو جمع کیا جنمیں تحریف موجود تھے۔
علی جمعہ نے کہا کہ ماضی میں سات مرتبہ سازش کی گئی کہ قرآن میں تحریف پیدا کیا جاسکے مگر خدا کے فضل سے تمام سازشیں نقش برآب ہوچکی ہیں
انکا کہنا ہے کہ امریکہ میں ایک لبنان نژاد باشندے نے کوشش کی کہ «فرقان الحق» کے نام سے ایک کتاب کو قرآن کی جگہ پیش کرے مگر کامیاب نہ ہوسکا ۔
اسرائیل کی ناکام کوشش
علی جمعه نے سال ۱۹۶۰ میں اسرائیل کی ناکام کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے آیت ۶۴ سوره مائده «وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ» کو تحریف کرکے «وقالت اليهود يد الله معلولة علت أيديهم وآمنوا بما قالوا» کو بدل دیا اور اس نسخے کو افریقی ممالک میں تقسیم بھی کیا۔
مصری مفتی نے کہا کہ علما نے فوری طور پر اسرائیل کی سازش کو بھانپ لیا اور اس طرز کے تمام نسخوں کو تمام علاقوں سے جمع کرانے میں کامیاب ہوئے اور یوں یہ سازش ناکام ہوئی۔