ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان -سماءٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ سعودی حکام نے وزیراعظم نواز شریف سے بات کی تھی کہ جنرل راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا جائے جس کی انہوں نے اجازت دی تھی ۔اُنہوں نے کہاکہ راحیل شریف نے اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کیلئے سعودی عرب کے سامنے 3 شرائط رکھی تھیں، پہلی شرط، ایران کو فوجی اتحاد میں شامل کیا جائے، چاہے وہ مبصر کی حیثیت سے ہی ہو، دوسری شرط یہ تھی کہ راحیل شریف کسی کی کمان میں کام نہیں کریں گے، ایسا نہ ہو کہ اصل سربراہی کسی سعودی کمانڈر کے پاس ہو اور انہیں اس کے نیچے کام کرنا پڑے۔ تیسری شرط یہ تھی کہ انہیں مسلم ممالک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے صلح کار کے طور پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے، بوقت ضرورت وہ مسلم دنیا میں اپنا کردار اداکرسکیں۔کیا ان شرایط پر عمل ہوگا، کیا یہ اتحاد اسلامی ممالک میں وحدت پیدا کرنے کا باعث ہوگا یا کشمیر اور فلسطین کے چھوڑ کر فرقہ وارانہ مسایل میں اضافے کا باعث بنے گا ، یہ آنے والا وقت واضح کرے گا۔