
ایکنا نیوز- پریس ٹی وی کے مطابق برما میں مسلمانوں کے مسایل کے حوالے سے ایک بین الاقوامی وفد بارہ روزے دورے پر میانمار آیا ہوا ہے
اس وفد کا فیصلہ مسلمانوں پر مظالم میں شدت آنے کے بعد کیا گیا ہے
وفد نے شیڈول کے مطابق گذشتہ روز راکھنے صوبے کے اعلی حکام سے ملاقات کی کوشش کی مگر حکام نے اس وفد سے ملنے سے انکار کردیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس علاقے میں متعدد بار بین الاقوامی وفود کی تذلیل ہوچکی ہے۔
ملایشیا سمیت کئی ممالک بارہا روہنگی مسلمانوں پر تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرچکے ہیں ، اسلامی تعاون تنظیم سمیت بین الاقوامی تنظیمیں بھی تشدد کی مذمت اور روکنے کا مطالبہ کرچکی ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں پر تشدد کیا جارہا ہے، خواتین سے اجتماعی زیادتی، گھروں کو نذر آتش اور بیجاگرفتاری کی بیشمار اطلاعات سامنے آچکی ہیں مگر لاکھوں مسلمانوں کو خود انکے ملک میں بنیادی حقوق سے محروم کرکے انہیں فرار ہونے پر مجبور کیا جارہا ہے
سال ۲۱۰۲ سے راکھین صوبے میں ہزاروں مرد وخواتین اور بچے ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ سرکاری سرپرستی میں فورسز کے تشدد کے ساتھ ساتھ شدت پسند بودھایی باشندے بھی عوام میں شب و روز مظالم ڈھا رہے ہیں۔
گذشتہ سال اس علاقے میں نو پولیس اہلکاروں کے قتل کا الزام لگا کر مسلمانوں پر ظم و ستم کا نیا بازار گرم کیا گیا ہے جسمیں ہزاروں لوگ ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔